Monday, June 11, 2018
اعتکاف


پچھلے سال جمعہ الوداع پر ایک افریقی نوجوان کو سوتے دیکھا تو پہلے تو سوچا اس اعتکاف کا کیا فائدہ پھر سوچا ہو سکتا ہے اسکی طبعیت خراب ہو ہم لوگ جمعہ پڑھ کر فارغ بھی ہو گئے وہ سوتا رہا کم از کم اچھی بات یہ تھی کہ اسکو کسی نے جگایا نہیں ورنہ پاکستان میں تو لوگ اپنے دین کے نہیں آپکے دین کے رکھوالے ہوتے
اس سال گیا تو اب ایک پھر لمبی تان کر سو رہا وہ ایک بھی ہوتا تو چلو لیکن تین عین جمعہ کے خطبہ کے دوران کانوں میں ہیڈ فون لگائے اقامت تک تو فون پر تھے اور سلام پھیر کر جب میں نے دیکھا تو واپس فون پر تھے
عام طور پر ہر جمعہ ایک لڑکا پورے خطبے کے دوران فیسبک پر ہوتا ہے بڑی مشکل سے نماز کے لئے فون رکھتا ہے اور شائد اللہ نے اسکو کوئی کمی نہیں چھوڑی لہذا سلام پھیر کر دعا کی بجائے ایک سیکنڈ میں فیسبک پر
اعتکاف انسان عبادت کے لئے جاتا ہے میرے ساتھ والا لڑکا گیم کھیل را تھا ایک کوئی فلم دیکھ رہا تھا یہ ٹرینڈ نہایت غلط ہے
اب یہ تصویر والا نوٹ کسی نے ٹانکا ہوا تھا جب اس قسم کے بچے/نوجوان اعتکاف بیٹھیں گے تو یہ کچھ ہو گا چور بھی گناہ بخشوانے گیا تھا گردن پر کئی گنا بوجھ لے کر واپس ہو گا
اگر کوئی کہیں بھی کسی بھی مسجد کی انتظامی کمیٹی کا رکن ہے اعتکاف کے لئے شرط رکھ دی جائے کہ فون گھر رکھ کر آؤ دس دن کوئی قیامت نہیں ٹوٹ پڑے گی یا پھر اگلے سال اعتکاف بیٹھ جانا
یہ گیم کھیلنے والے فلمیں دیکھنے والے سزا کے طور پر اگر گھر نہیں بھیجے جا سکتے تو بوریا بستر مسجد کی بیسمنٹ میں شفٹ کر دینا چاہئے

Thursday, June 07, 2018
ریحام خان کی آٹو بائوگرافی

کتاب لکھ کر چھپوانے کے دو طریقے ہوتے ہیں ایک آپ خود پیسے دے کر پرنٹ کروائیں خود اسکو بک سٹورز تک پہنچائیں یا سڑک کنارے کھڑے پر رکھ کر بیچیں اپنا گھر سٹوریج بنائیں یا کوئی جگہ لیں سب کام خود کرنے پڑتے
دوسرا طریقہ یہ ہے کہ پبلشر آپ کو کچھ پیسے دے کر کتاب میں حصہ دار بن جاتا ہے اگر آپ نئے ہیں تو آپ کو ڈالر پر کچھ سینٹ ہی ملتے سارا منافع پبلشر لے جاتا
کیچڑ اچھالنے والی کتاب میں بارگینگ ہوتی آپ کو جو لم سم مل را ہوتا اسکا دارومدار آپ کتنے لوگوں پر انگلی اٹھا سکتے پر ہوتا مثال کے طور پر اگر ریحام کی کتاب صرف عمران خان کے گرد گھومتی تو اسکو چند ہزار ملتے کہ ن لیگیوں کا کتاب اور تعلیم سے کچھ لینا نہیں سنجیدہ طبقہ خرافات پڑھتا نہیں اور پیچھے بہت کم لوگ بچیں گے جو کتاب خرید کر پڑھیں لیکن اگر اس میں وہ چھ اور نام ڈالے تو ہو سکتا ہے کسی کو عمران خان میں دلچسپی نہ ہو لیکن بنت مزاری جیسے مراد سعید میں دلچسپی لیتی اس جیسے مراد سعید یا کوئی اور نام کی وجہ سے کتاب خرید لیں یعنی جتنے زیادہ نام اتنی زیادہ پرابیبلٹی کہ کتاب بکے گی ھینس ریحام نے اتنے لوگوں کو اپنی کتاب میں نشانہ بنایا
ایک اہم بات یہ ہوتی کہ کتاب لکھ کون رہا ڈرائیور لکھے تو وہ ساب کے بارے چسکے ہی لکھ سکتا یا کوئی چھوٹی موٹی اندر کی بات کہ وہ دن کا کتنا حصہ ساب کے ساتھ رہتا؟ سیکرٹری زیادہ اہمیت لے گی کہ وہ دن میں آٹھ گھنٹے تو ساب کے ساتھ رہتی لیکن بیوی لکھے تو وہ تو ہر وقت ہی ساب کے سر پر سوار رہتی اسی لئے کچھ عرصہ پہلے ریحام نے بی بی سی کو انٹرویو دیا تھا تو اپنا تعارف سماجی کارکن ریحام خان کی بجائے عمران خان کی بیوی کی حیثیت سے کروایا تھا کہ وہ اپنا آپ اسٹیبلش کر رہی تھی اس کتاب کے لئے کہ زیادہ سے زیادہ لوگ اسکو جان لیں
گند چھپوانے کو ثبوت بھی چاہئے ہوتے کوئی بھی پبلشر بغیر ثبوت کے کبھی ریحام کی کتاب نہیں چھاپے گا کیونکہ  sue کی صورت میں کمپنی دیوالیہ ہو سکتی یہی وجہ ہے کہ الیکشن میں چھ ہفتے اور کتاب ابھی تک چھپ نہیں سکی یہ ہم دیسی لوگوں کی عادت ہوتی کہ دیکھی جائے گی کچھ نہیں ہوتا سوچ کے ساتھ آگے بڑھتے اور پھر تنگ ہوتے یہی ریحام کے ساتھ ہو رہا
لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ سیاستدانوں کو کنٹرول ہمیشہ ایسے بلیک میلنگ سے کیا جاتا اس کی شروعات بھی برطانیہ سے ہی ہوئی تھی
بلیک بیری کہاں ہے یہ تو نہیں معلوم لیکن خانصاحب بلیک میل ہوتے نہیں اور فی الحال محسوس ہوتا ہے اللہ کا کرم ہے ان پر
اللہ پاکستان پر رحم کرے آمین

Friday, February 24, 2017
پراکسی بابے


اوائل جوانی میں جب سوچنا شروع کیا تو ملکی حالات دیکھ کر سوچ کر گتھی یہ سلجھائی کہ ملک کا سب سے بیسک مسئلہ کیا ہے جو ایک چیز ایسی ہو کہ اس سے شروع ہو تو معاشرہ ٹھیک ہونا شروع ہو جائے میں نے تب لکھا تھا کہ ہمارا بنیادی مسئلہ "تلیم دی کمی" ہے
ہمارا دوسرا مسئلہ اپنے آپ کو برتر سمجھنا ہے ہر بندہ خود کو ہیرو اور عقل کل مانتا ہے دوسرے کی سننے کو تیار نہیں ہمارا دوسرا مسئلہ ایک دوسرے کو عزت نہ دینا ہے
عقل دانائی کسی کو کسی بھی عمر میں مل سکتی اس کے لئے بوڑھی عمر کا ہونا ضروری نہیں بلکہ احادیث میں تو قرب قیامت کی نشانی یہ بتائی گئی ہے کہ جوانوں کے پاس پیسہ ہو گا اور بچے اپنے والدین سے زیادہ عقل مند ہونگے بڑھاپے میں آج کل ویسے بھی یادداشت کا مسئلہ ہو جاتا ہے جبکہ پہلے خالص خوراکوں کی وجہ سے بوڑھے پھر چار دن نکال جاتے تھے اور بچے عقلمند اس لئے بھی ہیں کہ معاشرہ جیسے نت نئی ٹیکنالوجی لا رہا بچے جلدی اڈاپٹ کر لیتے
اکثر پڑھے لکھے نفیس خاندان بھی اپنے سے کم عمر لوگوں کی بات سرے سے سیرئیس لیتے ہی نہیں بلکہ اگر کوئی چھوٹا بولے تو اس کو گستاخی شمار کرتے ہیں خاص طور پر پیشہ بہت اہمیت کا حامل ہے اگر کوئی کسی چھوٹی موٹی جاب پر لگا ہوا ہے تو چاہے اس کو آپ کے ابا جان سے بھی زیادہ علم ہو آپ اس کی بات نہیں سنیں گے اور اگر کوئی کسی اچھی پوسٹ پر ہے تو اماں کو ڈاکٹر کو دیکھانے سے پہلے بھاگ بھاگ کر اس سے مشورے کریں گے
میں اکثر سوشل ایکسپیریمںٹ کرتا رہتا ہوں ایک مزے کا ہے آپ بھی کیجئے کہیں کسی کا قول بغیر اس کے نام سے ایسے انداز میں لکھیں کہ آپ کی اپنی خرافات لگے
یہ ہمارے اکثر لوگ اشفاق احمد کو بہت کوٹ کرتے ہیں اس سے پہلے واصف علی واصف کے چھاپے لگاتے تھے یہ پڑھے لکھے بابو ان کو بابا بھی ایسا چاہئے جو کلف لگا سوٹ پہن کر اوپر واسکٹ عینک جمائے صاف ستھرے کپڑے گھر صوفے پر بیٹھا وعظ کر رہا ہو اور یہ جھوم جھوم کر عقل و خرد و دانش اپنے اندر اترتی محسوس کریں
اشفاق احمد جن بابوں کا ذکر کرتا ہے ہمارے بابو لوگ ان کے پاس جائیں تو ان کو ان بابوں میں کشف خاک نظر آنی ان کو ان بابوں کے میلے کپڑوں گندے ہاتھ پسینے کی سڑاند پاوں کی پھٹی ایڑیوں اور ٹوٹے جوتوں نے ایسا خائف کرنا کہ انہوں نے دل میں سوچنا ہنہ اس بندے کو اللہ نے عقل دی ہوتی تو یہ اس حال میں ہوتا؟
ہمارے پڑھے لکھے بابو لوگوں کو پراکسی چاہئے کہ عقل و دانش کسی ائیرکنڈیشنڈ ہال یا بیٹھک میں ایک صاف ستھرا بابا خوشبو لگائے بانٹ رہا ہو 

Wednesday, May 25, 2016
افریقہ میں خواتین کی حالت زار پر یونائیٹڈ نیشن کی رپورٹ


ویسے تو اکثر کسی نہ کسی سے بحث ہوتی لیکن ایک عزیز سے خواتین اور مرد میں مرد پر زیادہ انعام و اکرام پر بحث ہو گئی
وہ یہ بات ماننے کو تیار نہیں تھا کہ مرد صرف کما کر لاتا ہے لہذا وہ افضل ہے
مرد جتنے پیسوں میں ایک گھر لا کر بساتے اتنے میں باہر دس مل جاتی اس پر وہ آگ بگولہ ہو گیا :ڈ حالانکہ اگر مرد کی فطرت میں ہی عورت رکھ دی گئی ہے اس کے باوجود وہ ایک یا دو یا تین یا چار گھر بساتا ہے ان کی تمام ذمہ داریاں پوری کرتا ہے تو بات تو سمجھنے والی ہے کہ اس کو کیوں انعام و اکرام ملنا؟ ایک عورت لا کر تمام ذمہ داریاں پورا کرنا آسان ہے یا باہر جگہ جگہ منہ مارنا جہاں کوئی ذمہ داری نہیں سر پر؟
ابھی پچھلے ماہ یونائیٹڈ نیشن نے افریقہ کے کانفلیکٹ زون میں عورتوں کی حالت زار پر رپورٹ نکالی ہے پڑھ کر رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہر عورت کئی کئی دفعہ ریپ کا شکار ہو رہی ہے اور جدھر جہاں ملتی ہے وہیں ریپ کر دیا جاتا ہے لکڑیاں چن رہی ہے یا اپنے گھر بیٹھی ہے یا ریفیوجی کیمپ میں کوئی روکنے والا نہیں
اسی پر بس نہیں چھ ماہ تک کی بچیوں کا ریپ عام معمولی بات ہے ایسی تمام بچیاں ساری زندگی پاٹی ٹرین نہیں کر سکیں گی یعنی رفع حاجت۔ کئی بچیاں جو اب بڑی ہو چکی ہیں ان کا پیشاب پر کنٹرول ختم ہو گیا ہے ہر وقت رستا رہتا ہے جس سے انکا سوشلی بائیکاٹ عام ہے
 شیطان اور حیوان ناچ رہے اگر یہ کم ہے تو عورتوں کو گاوں کی سڑک پر باندھ دیا جاتا ہے کہ ہر آتا جاتا فوجی اپنی پیاس بجھا سکے کھانے کو کوئی منہ میں ڈال دے تو ڈال دے اگر کوئی عورت بھوک پیاس گرمی سے بیہوش ہے تو اس پر پانی پھینک کر اس کو ہوش میں لا کر ریپ کر دیا جاتا ہے
اگر یہ کم ہے تو جو عورت من مانی کرنے دے اس کو کچھ نہیں کہا جاتا سوائے یہ کہ اس کو ایڈز اور حمل کا تحفہ مل جاتا ہے لیکن جو شور مچائے مزاحمت کرے اس کی شرمگاہ میں درختوں کی شاخیں نوک دار کوئی بھی شے پتھر کنکر کانٹے یہاں تک کہ بلیڈ تک نکالے گئے ہیں اس کے علاوہ شرمگاہ میں پستول ڈال کر گولی چلا دینا عام سی بات ہے ایک خاتون جو کہ زندہ بچ گئی اس سے گولی ریکور کی گئی جو اندر رہ گئی تھی
ایسی عورتیں جنکو بچہ ہو جاتا ہے ان کے مرد سوشل پریشر پر عورت کو تو قبول کر لیتے ہیں لیکن مار پیٹ کرتے ہیں کہ تمہارے ساتھ یہ ہوا اور بچے کی کسی بھی قسم کی کفالت کرنے کی بجائے اس کے باپ کو ڈھونڈنے کا کہتے ہیں ایسے کئی بچے مر چکے ہیں 
یہ سب یونائٹڈ نیشن کے ہمراہ گئی ایک ڈاکٹر نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے
یہ ہے مرد کی سرکشی نافرمانی اگر مرد شیطانیت کی ہر حد کراس کر سکتا ہے تو ایسا مرد جو اللہ سے ڈر کر سیدھے راستے پر چلے اور اپنے اندر کے حیوان کو کنٹرول میں رکھے اس پر انعام و اکرام بنتا نہیں ہے

Tuesday, September 29, 2015
اے جذبہ دل گر میں چاہو

صرف دنیا ہی سب کچھ نہیں باقی رہنے والی چیز آخرت ہے بہت سے فیصلے بہت سے کام انسان کو دنیا نہیں آخرت کو مدنظر رکھ کر کرنے چاہئے دنیاوی مصلحتوں یا لوگوں کے خوف ڈر دباو سے پیچھے نہیں ہٹنا چاہئے دنیا کی تکلیف آخرت کی راحت کی گارنٹی ہے
اسلامی فتوحات جب شروع ہوئی تو ایک عرب بدو بھی ایک لشکر میں شامل تھا کسی علاقے کی فتح پر اس نے کہا کہ فلاں عورت مفتوحہ علاقے کے بادشاہ یا سردار کی بیٹی جس کے حسن و جمال کے قصے ساری عمر سنے تھے وہ مجھے لونڈی کے طور پر بخشی جائے 
اس عورت کے خاندان والے بہت چیں بہ چیں ہوئے کہ ایک معمولی بدو ہمارے خاندان کی عورت کو باندی بنائے لیکن چونکہ شکست کھا چکے تھے لہذا بھیجنے پر مجبور تھے عورت سمجھدار تھی بولی غم نہ کرو میری جوانی ڈھل چکی مجھے جانے دو میں جا کر کوئی تدبیر کرتی 
جب عورت اس بدو کے خیمے میں پہنچائی گئی بدو نے اس کو دیکھا تو گھڑوں پانی پڑ گیا عورت بولی کیا ہوا پریشان کیوں ہو اس نے کہا اب میں بوڑھی ہو چکی بہتر ہے مجھ بڑھیا کے بجائے میرے خاندان سے رقم کا تقاضا کرو بدو ساب نے اس عورت کو بھیج دیا کہ اس کے بدلے مجھے ہزار درہم دے دو اور رقم لے کر جا کر قصہ سنایا اپنا تو لوگوں نے پوچھا کہ وہ خاندان تو بہت امیر تھا ہزار کے بجائے دس ہزار بھی مانگتے تو مل جاتا تو بدو بولا مجھے گنتی ہی ہزار تک آتی تھی
تو نہ عورت ملی نہ امیر ہوا بیوقوف تھا عورت رکھ لیتا اگر اسلامی تعلیمات پتہ ہوتی تو یہی عورت اگلے جہاں زیادہ  خوبصورت اور جوان ہو کر مل جاتی 

so when the stars and the moon and the sun and all the universe has aligned it self I am not backin up I am not gettin cold feet & I certianly am not goin to let you down 
I am simply here to stay, here and here after


اے جذبہ دل گر میں چاہوں
ہرچیز مقابل آ جائے
منزل کے لئے دو گام چلوں
اور سامنے منزل آ جائے

Thursday, September 17, 2015
اللہ


اطمینان سکھ چین ہو تو آپ سے محبت ہے
دکھ تکلیف رنج ہو تو آپ سے شکوہ ہے
لیکن
جو بھی ہے آپ سے ہی ہے 

Wednesday, September 09, 2015
غلطی


اب غلطی کا احساس خود سے  نہیں ہوتا
غلطی کا احساس دوسرے کے ری ایکشن سے لگاتے کہ کتنی بڑی غلطی ہے اگر کوئی ردعمل ظاہر نہ ہو تو ہمیں احساس ہی نہیں ہوتا کہ کتنی بڑی غلطی کر بیٹھے ہیں
ہم شرمندہ اس لئے  نہیں ہوتے کہ ہمیں احساس ہو گیا ہے اپنی غلطی کا ہم شرمندہ اس لئے ہوتے ہیں کہ اگلے کو تو ہماری غلطی سے دکھ تکلیف شرمندگی اٹھانی پڑ گئی اب ہمیں اس غلطی کا سدھارنے کا نہ کہا جائے
یعنی ہمیں شرمندہ نہ ہونا پڑے دوسرا چاہے دکھ تکلیف سے ادھ موا ہو یا جان سے جائے ہماری بلا سے بس ہم بچ جائیں