Pages

Showing posts with label اردو. Show all posts
Showing posts with label اردو. Show all posts

Monday, June 11, 2018
اعتکاف


پچھلے سال جمعہ الوداع پر ایک افریقی نوجوان کو سوتے دیکھا تو پہلے تو سوچا اس اعتکاف کا کیا فائدہ پھر سوچا ہو سکتا ہے اسکی طبعیت خراب ہو ہم لوگ جمعہ پڑھ کر فارغ بھی ہو گئے وہ سوتا رہا کم از کم اچھی بات یہ تھی کہ اسکو کسی نے جگایا نہیں ورنہ پاکستان میں تو لوگ اپنے دین کے نہیں آپکے دین کے رکھوالے ہوتے
اس سال گیا تو اب ایک پھر لمبی تان کر سو رہا وہ ایک بھی ہوتا تو چلو لیکن تین عین جمعہ کے خطبہ کے دوران کانوں میں ہیڈ فون لگائے اقامت تک تو فون پر تھے اور سلام پھیر کر جب میں نے دیکھا تو واپس فون پر تھے
عام طور پر ہر جمعہ ایک لڑکا پورے خطبے کے دوران فیسبک پر ہوتا ہے بڑی مشکل سے نماز کے لئے فون رکھتا ہے اور شائد اللہ نے اسکو کوئی کمی نہیں چھوڑی لہذا سلام پھیر کر دعا کی بجائے ایک سیکنڈ میں فیسبک پر
اعتکاف انسان عبادت کے لئے جاتا ہے میرے ساتھ والا لڑکا گیم کھیل را تھا ایک کوئی فلم دیکھ رہا تھا یہ ٹرینڈ نہایت غلط ہے
اب یہ تصویر والا نوٹ کسی نے ٹانکا ہوا تھا جب اس قسم کے بچے/نوجوان اعتکاف بیٹھیں گے تو یہ کچھ ہو گا چور بھی گناہ بخشوانے گیا تھا گردن پر کئی گنا بوجھ لے کر واپس ہو گا
اگر کوئی کہیں بھی کسی بھی مسجد کی انتظامی کمیٹی کا رکن ہے اعتکاف کے لئے شرط رکھ دی جائے کہ فون گھر رکھ کر آؤ دس دن کوئی قیامت نہیں ٹوٹ پڑے گی یا پھر اگلے سال اعتکاف بیٹھ جانا
یہ گیم کھیلنے والے فلمیں دیکھنے والے سزا کے طور پر اگر گھر نہیں بھیجے جا سکتے تو بوریا بستر مسجد کی بیسمنٹ میں شفٹ کر دینا چاہئے

Friday, February 24, 2017
پراکسی بابے


اوائل جوانی میں جب سوچنا شروع کیا تو ملکی حالات دیکھ کر سوچ کر گتھی یہ سلجھائی کہ ملک کا سب سے بیسک مسئلہ کیا ہے جو ایک چیز ایسی ہو کہ اس سے شروع ہو تو معاشرہ ٹھیک ہونا شروع ہو جائے میں نے تب لکھا تھا کہ ہمارا بنیادی مسئلہ "تلیم دی کمی" ہے
ہمارا دوسرا مسئلہ اپنے آپ کو برتر سمجھنا ہے ہر بندہ خود کو ہیرو اور عقل کل مانتا ہے دوسرے کی سننے کو تیار نہیں ہمارا دوسرا مسئلہ ایک دوسرے کو عزت نہ دینا ہے
عقل دانائی کسی کو کسی بھی عمر میں مل سکتی اس کے لئے بوڑھی عمر کا ہونا ضروری نہیں بلکہ احادیث میں تو قرب قیامت کی نشانی یہ بتائی گئی ہے کہ جوانوں کے پاس پیسہ ہو گا اور بچے اپنے والدین سے زیادہ عقل مند ہونگے بڑھاپے میں آج کل ویسے بھی یادداشت کا مسئلہ ہو جاتا ہے جبکہ پہلے خالص خوراکوں کی وجہ سے بوڑھے پھر چار دن نکال جاتے تھے اور بچے عقلمند اس لئے بھی ہیں کہ معاشرہ جیسے نت نئی ٹیکنالوجی لا رہا بچے جلدی اڈاپٹ کر لیتے
اکثر پڑھے لکھے نفیس خاندان بھی اپنے سے کم عمر لوگوں کی بات سرے سے سیرئیس لیتے ہی نہیں بلکہ اگر کوئی چھوٹا بولے تو اس کو گستاخی شمار کرتے ہیں خاص طور پر پیشہ بہت اہمیت کا حامل ہے اگر کوئی کسی چھوٹی موٹی جاب پر لگا ہوا ہے تو چاہے اس کو آپ کے ابا جان سے بھی زیادہ علم ہو آپ اس کی بات نہیں سنیں گے اور اگر کوئی کسی اچھی پوسٹ پر ہے تو اماں کو ڈاکٹر کو دیکھانے سے پہلے بھاگ بھاگ کر اس سے مشورے کریں گے
میں اکثر سوشل ایکسپیریمںٹ کرتا رہتا ہوں ایک مزے کا ہے آپ بھی کیجئے کہیں کسی کا قول بغیر اس کے نام سے ایسے انداز میں لکھیں کہ آپ کی اپنی خرافات لگے
یہ ہمارے اکثر لوگ اشفاق احمد کو بہت کوٹ کرتے ہیں اس سے پہلے واصف علی واصف کے چھاپے لگاتے تھے یہ پڑھے لکھے بابو ان کو بابا بھی ایسا چاہئے جو کلف لگا سوٹ پہن کر اوپر واسکٹ عینک جمائے صاف ستھرے کپڑے گھر صوفے پر بیٹھا وعظ کر رہا ہو اور یہ جھوم جھوم کر عقل و خرد و دانش اپنے اندر اترتی محسوس کریں
اشفاق احمد جن بابوں کا ذکر کرتا ہے ہمارے بابو لوگ ان کے پاس جائیں تو ان کو ان بابوں میں کشف خاک نظر آنی ان کو ان بابوں کے میلے کپڑوں گندے ہاتھ پسینے کی سڑاند پاوں کی پھٹی ایڑیوں اور ٹوٹے جوتوں نے ایسا خائف کرنا کہ انہوں نے دل میں سوچنا ہنہ اس بندے کو اللہ نے عقل دی ہوتی تو یہ اس حال میں ہوتا؟
ہمارے پڑھے لکھے بابو لوگوں کو پراکسی چاہئے کہ عقل و دانش کسی ائیرکنڈیشنڈ ہال یا بیٹھک میں ایک صاف ستھرا بابا خوشبو لگائے بانٹ رہا ہو 

Tuesday, September 29, 2015
اے جذبہ دل گر میں چاہو

صرف دنیا ہی سب کچھ نہیں باقی رہنے والی چیز آخرت ہے بہت سے فیصلے بہت سے کام انسان کو دنیا نہیں آخرت کو مدنظر رکھ کر کرنے چاہئے دنیاوی مصلحتوں یا لوگوں کے خوف ڈر دباو سے پیچھے نہیں ہٹنا چاہئے دنیا کی تکلیف آخرت کی راحت کی گارنٹی ہے
اسلامی فتوحات جب شروع ہوئی تو ایک عرب بدو بھی ایک لشکر میں شامل تھا کسی علاقے کی فتح پر اس نے کہا کہ فلاں عورت مفتوحہ علاقے کے بادشاہ یا سردار کی بیٹی جس کے حسن و جمال کے قصے ساری عمر سنے تھے وہ مجھے لونڈی کے طور پر بخشی جائے 
اس عورت کے خاندان والے بہت چیں بہ چیں ہوئے کہ ایک معمولی بدو ہمارے خاندان کی عورت کو باندی بنائے لیکن چونکہ شکست کھا چکے تھے لہذا بھیجنے پر مجبور تھے عورت سمجھدار تھی بولی غم نہ کرو میری جوانی ڈھل چکی مجھے جانے دو میں جا کر کوئی تدبیر کرتی 
جب عورت اس بدو کے خیمے میں پہنچائی گئی بدو نے اس کو دیکھا تو گھڑوں پانی پڑ گیا عورت بولی کیا ہوا پریشان کیوں ہو اس نے کہا اب میں بوڑھی ہو چکی بہتر ہے مجھ بڑھیا کے بجائے میرے خاندان سے رقم کا تقاضا کرو بدو ساب نے اس عورت کو بھیج دیا کہ اس کے بدلے مجھے ہزار درہم دے دو اور رقم لے کر جا کر قصہ سنایا اپنا تو لوگوں نے پوچھا کہ وہ خاندان تو بہت امیر تھا ہزار کے بجائے دس ہزار بھی مانگتے تو مل جاتا تو بدو بولا مجھے گنتی ہی ہزار تک آتی تھی
تو نہ عورت ملی نہ امیر ہوا بیوقوف تھا عورت رکھ لیتا اگر اسلامی تعلیمات پتہ ہوتی تو یہی عورت اگلے جہاں زیادہ  خوبصورت اور جوان ہو کر مل جاتی 

so when the stars and the moon and the sun and all the universe has aligned it self I am not backin up I am not gettin cold feet & I certianly am not goin to let you down 
I am simply here to stay, here and here after


اے جذبہ دل گر میں چاہوں
ہرچیز مقابل آ جائے
منزل کے لئے دو گام چلوں
اور سامنے منزل آ جائے

Thursday, September 17, 2015
اللہ


اطمینان سکھ چین ہو تو آپ سے محبت ہے
دکھ تکلیف رنج ہو تو آپ سے شکوہ ہے
لیکن
جو بھی ہے آپ سے ہی ہے 

Monday, November 17, 2014
بندر اور پٹھان


کسی جنگل میں جمہوریت آئی تو دھاندلی سے بندر جیت گیا اس کے وزیراعظم بنتے ہی اس کے جملہ عزیز رشتہ داروں نے خوب پر پرزے نکالے اسی طرح جنگل کے دوسرے درندے بھی حدوں سے بڑھ گئے ایک دن لومڑی چیختی چلاتی آئی کہ بھیڑیا اس کا بچہ اٹھا کر لے گیا ہے بندر نے یہ سنا تو ایک درخت سے دوسرے دوسرے سے تیسرے تیسرے سے چوتھے اور سو آن کافی درختوں پر جا کر خوب اچھل کود کی خوب چیخا چلایا آوازیں نکالی اور چپ کر گیا
اگلے دن خرگوش اور تیسرے دن بطخ یہی شکائیت لے کر آئی بندر نے پھر یہی سب کچھ کیا تو میڈیا والوں نے سوال کیا حضور آپ کچھ کرتے کیوں نہیں؟ بندر نے جواب دیا جو کچھ کر سکتا تھا کر تو رہا ہوں اس سے زیادہ کیا کر سکتا ہوں میں؟
ہمارے پیارے وزیراعظم نواز شریف کا بھی یہی حال ہے آپ کو دورے پر دورہ پڑتا ہے جیسے ہی دھرنا شروع ہوا کچھ شدت میں افاقہ ہوا لیکن اب پھر دورے پر دورہ پڑ رہا اپنے ملک میں ٹک ہی نہیں رہے اور باہر والے ان کو ذرا سی عزت دینے کو تیار نہیں قوم کا پیسہ برباد کر رہے پچھلے سال اوبامہ نے ذلت آمیز فوٹوز شائع کروا دی تھیں اس سال ڈیوڈ کیمرون نے انتظار کروا دیا

نواز شریف تو عزت کے معاملے میں زرداری ساب سے بھی گیا گزرا ہے نہ قوم عزت کرنے کو تیار ہے نہ نوازشریف بےعزتی محسوس کرنے پر تیار ہے نواز شریف سے زیادہ اہمیت تو اگلوں نے جنرل راحیل شریف کو دے دی نوازشریف کب سوچیں سمجھیں گے ؟
میرے ایک دوست نے ایک دن بڑی بات کی کہ نواز تیسری دفعہ وزیر اعظم بنا اسٹیبلشمنٹ کو ناپسند ہونے کے باوجود اور اللہ نے مال وی خوب دیا وغیرہ وغیرہ مال تو قارون کے پاس بھی بہت تھا اور جہاں پوری قوم کرپٹ ہوں وہاں آپ کے خیال میں نوازشریف صاحب نہایت ایماندار انسان ہونگے؟ فسق و فجور میں مبتلا قوموں پر ایسے ہی نکمے ناکارہ حکمران مسلط کئے جاتے ہیں
چلتے چلتے ایک اور لطیفہ ہو جائے ایک پٹھان نے کسی جگہ رشتہ کا پیغام دیا گھر والوں نے خوب پٹائی کی مار مار کر برا حال کر دیا اور اٹھا کر گھر سے باہر پھینک دیا پٹھان کراہتے ہوئے اٹھا کپڑے جھاڑے زخموں کو سہلایا اور بولا تو پھر میں انکار ہی سمجھوں؟ ہمارے وزیراعظم کا بھی یہی حال ہے ان کو ابھی تک یقین نہیں آ رہا



Tuesday, November 11, 2014
دھوکہ


میرا خیال تھا کہ وہ گلا سڑا ہر قسم کا پھل ڈال دے گا اور ویسے بھی دھوکہ کھانے کا مجھے بہت شوق ہے میں جان بوجھ کر اگلے کو موقع دیتا ہوں کہ وہ اگر بےایمانی کرنا چاہے تو کر لے کیونکہ آئندہ میں نے اپنا بزنس اس کو نہیں دینا
بنگالی نے سیب ڈالے دو داغی نکلے اس نے الگ رکھ دئے میں نے سوچا پوچھونگا اس سے کہ کیا یہ سیب واپس جاتے اس نے ٹھیلے کے پیچھے سے میری طرف آتے ہوئے دونوں چوٹ لگے سیب اٹھائے اور کوڑے کی ٹوکری میں پھینک دئیے
یہ وہ نکتہ ہے جو ہمارے دیسیوں کو سمجھ نہیں آتا ایک دفعہ کی بےایمانی یا کم تولنا آپ کے اپنے لئے نقصاندہ ہے اب جب تک میں اس علاقے میں رہونگا میں نے پھل اسی سے لینا ہے اس نے مستقل آمدنی کا ذریعہ پیدا کیا نہ کہ ایک دفعہ ٹھگنا چاہا
ویسے ایک ٹپ دوں اگر پھل لینا ہے تو سپر سٹور سے  نہیں یہ جو سڑک کنارے ٹھیلے لگا کر بیٹھے ہوتے ان سے لیں ایک تو ہر رات تازہ پھل آتا دوسرے سپر سٹور سے سستا ہوتا جیسے جو کیلے سپر سٹور سے تین ڈالر کے ملیں وہ اس سے دو ڈالر کے مل جاتے
میں نے جب بھی دھوکہ کھایا یا بے ایمانی ہوئی پاکستانی سے ہی ہوئی اس چیز کے بھی پیسے ٹھگنے کی کوشش کرتے جو فری ہو ایک دفعہ برف میں گاڑی کا ایک فیوز اڑ گیا سوچا ادھر سے ڈلوا لوں کیا اپنے مکینک کے پاس جاونگا وہ فیوز دو ڈالر کا پورا پیکٹ ملتا اس پاکستانی نے پانچ ڈالر کا ایک ڈالا
ایک دوسرے پاکستانی سے پوشش کروائی اس نے اس پرزے کے دس ڈالر اینٹھ لئے جو اس نے ڈالا ہی نہِں تھا اویجنل کو ٹھیک کر کے لگا دیا تھا میں نے قسم کھا لی اب اس سے کام نہیں کروانا کبھی بھی
جائیرو یہاں بڑی مشہور ہے سٹریٹ وینڈرز کے پاس عام بکتی ہر دوسرے کونے پر جس سے میں کھاتا وہ مصری ہیں انہوں نے پانچ سے چھ ڈالر کا پلیٹر کیا تو چیز بھی زیادہ دینی شروع کی ان کا ڈے پارٹنر پاکستانی ہے وہ ماشاللہ کبھی شام کو ٹکر جائے تو اس کا دل ہی نہیں کر رہا ہوتا کہ پلیٹر بھر دے :ڈ کم تول کر پیسے پورے لینے پاکستانی حرام کھانے میں شیر ہیں جبکہ آپ مصری کو دیکھیں ایسے بھر بھر کر دے رہا ہوتا اور رش بھی اس کو خوب لگتا حالانکہ سیم کارٹ ہے لیکن اللہ جس کو دے جس کو نہ دے

Tuesday, October 07, 2014
حرم سے کلب تک


 جب دوستوں کو بتایا کہ امریکہ جا رہا ہوں تو ان کے تاثرات مجھے بڑے عجیب لگے ایکسائٹڈ سے حیرت کے رشک کے لیکن مجھے رشک نہیں آتا میرے کتنے دوست دنیا کے کتنے ملکوں میں ہیں رشک آتا ہے تو ان پر جو سعودیہ جاب کرتے ہیں بلکہ سچی پوچھیں تو جلن ہوتی ہے
میرے ایک دوست کی جب سعودیہ جاب لگی تو مجھے اتنی جیلسی ہوئی کہ میں نے باقاعدہ اللہ سے شکوہ کیا کہ اللہ میاں میں کیوں نہیں؟ ساری دنیا کو ادھر بلائی جا رہا میں نے کیا کیا؟ مجھے ایسا لگا کہ اللہ نے مجھے ساری دنیا دے دی اور اس کو خود دے دیا ناچار جو مجھ سے کبھی آگے نہ نکل سکا تھا مجھے تسلیم کرنا پڑا کہ وہ مجھ سے آگے نکل گیا
وہ جب پہلی دفعہ حرم گیا اس نے مجھے بتایا جب عمرہ کیا مجھے بتایا مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گیا مجھے بتایا میرا کلیجہ ساڑتا رہا میرے شکوے وی جاری ہو جاتے پر کبھی پیسے ہی نہیں جمع ہوئے ویسے وی بلاوا آئے تو بندہ جائے
لیکن یہ دو دن پہلے اس نے مجھے ہلا کر رکھ دیا بولا دبئی جا رہا ملنے آ جا میں نے کہا کوئی لڑکی بلا رہی ہوتی تو چلا وی جاتا تجھ حرام صورت کو ملنے اتنی دور جانے کی کیا ضرورت؟ میں نے کہا دوبئی کدھر عید منانی کلب؟ کہتا وہ تو میں بحرین سارے کلب پھر آیا نئی چیز نہیں میں نے پوچھا تو کرنے کیا جاتا؟ شراب پینے؟ یا بچی پٹانے؟ فرمایا پی بھی لی اور کئی لڑکیوں کے ساتھ ڈانس بھی کر لیا بہت اچھا تجربہ تھا میں نے پوچھا صرف ڈانس؟ ہنس کر بولا باقی خود ہی سمجھ جا نا
اللہ میاں ناٹ فئیر ہدایت دے کر واپس نہیں لینی چاہئے اتنے پاس بلا کر راندہ درگاہ نہیں کرنا چاہئے
باپ نے اس کی منگنی اس لئے توڑ دی تھی کہ لڑکی کا رویہ والدین سے کچھ ناچاق سا لگا بندہ پوچھے آجکل کے والدین بڑے عقلمند؟ پھر اور کہیں بھی رشتہ نہیں ڈھونڈا خود انکل کی اس حرکت سے بیٹا شراب اور کباب میں لگ گیا اس کا عذاب صرف بیٹے کو تو نہیں؟ تیس سال کا لڑکا آپ اس کی شادی کر نہیں رہے وہ اپنی ضرورت پوری کرے گا اور ضرور کرے گا اور نتیجہ دونوں کو اپنے اپنے اعمال کے مطابق بھگتنا پڑے گا اللہ ہر بندے کو ہدایت دے جو دوسرے کی جان کے ساتھ ساتھ اپنی جان پر بھی ظلم کر رہا



Saturday, September 27, 2014
set by example


نومبر کی سردی اور صبح صبح پونے دس بجے کال آ گئی
اٹھ جاو ماموں لینے آ رہے ہیں
میں:کیوں؟
گاڑی کا ٹائر فلیٹ ہو گیا ہے تم نے تبدیل کرنا ہے
ایک دفعہ بڑے سالے کے ایک دوست کی گاڑی میں جیک نہیں تھا اس کی گاڑی پنکچر ہو گئی تو اس کو جیک دینے گیا پر جیسے وہ زنانہ ہاتھ لگا رہا تھا پورا ٹائر تبدیل کر کے دینا پڑ گیا اب بھی یہی کہانی میرے پر پڑ گئی تھی تین دن سے سائن آ رہا گاڑی چلائے جا رہے دس ڈالر کا پنکچر نہیں لگوایا سو ڈالر کا ٹائر ڈلوانا پڑ گیا
خیر وہاں پہنچا جا کر ٹائر تبدیل کیا اتنے میں پیچھے سے آواز آئی
یو نیڈ ہیلپ؟
مڑ کر دیکھا تو لاٹ پادری ساب نیلا سفید چوغہ پہنے آ رہے پیچھے ان کے دس بارہ لوگ اور بھی تھے 
ہم نے کہا نہیں تو انہوں نے بار بار پوچھا یو شیور؟ ہمارے یقین دلانے پر انہوں ںے کہا کہ اچھا اندر کھانے کو کافی سامان ہے باہر کافی ٹھنڈ ہے فارغ ہو کر اندر آو اور کوئی چائے کافی لو
اس کو کہتے ہیں سیٹ بائے ایگزامپل
جو اس پادری اور ساتھ دس بندے لانے کا ہم پر اثر ہوا وہ اس کی سو سال کی تقریروں سے نہ ہو سکتا
حضرت بلال ایسے ہی حضور پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جانثار بن گئے تھے

https://www.facebook.com/NovelsByNimraAhmed/posts/354506351382059?fref=nf

خان ساب نے پوری قوم کو بل جمع نہ کروانے کا کہا بلکہ بل جلا کر بھی دیکھایا اور انتیس اگست کو زمان پارک کا بل جمع کروا دیا خان ساب اپنے گھر کی بجلی کٹ جانے دیتے خان صاحب نے قسم کھائی ہوئی ہے کہ میرے جیسے لوگوں کو متنفر کر کے ہی چھوڑنا ہے اس قسم کی دو نمبریوں سے خان صاب اور باقی لوگوں میں کیا فرق رہ گیا؟

جیمز بانڈ کوانٹم آف سولیس
ولن ڈومینک گرین افریقہ کے کسی آمر سے ڈیل کر رہا ہوتا ہے کہ وہ پانی کے فلاں ذخائر اس کی کمپنی کے انڈر کر دے نہ ماننے پر وہ اس کو اپوزیشن کی دھمکی دیتا ہے آمر گھٹنے ٹیک دیتا ہے
لیڈر خاص طور پر ہمارے لیڈر وہ نشئی اولاد ہوتے ہیں جو نشے کے لئے بہن کی عزت بھی داو پر لگا دیں تحریک انصاف کا نوازشریف کے خلاف سلامتی کونسل کے باہر احتجاج غلط تھا خان صاب امریکہ آ کر اس احتجاج کی لیڈ کیوں نہیں کی؟ یہ نواز یا خان کا معاملہ نہیں تھا یہاں پاکستان بدنام ہوا ہمارے ملک کی آگے کوئی عزت نہیں اور عزت تو اس وقت سے نہیں جب صدر بش کرکٹ کھیل کر نکل گئے تھے اسی وقت ہم صدر بش سے معذرت کر لیتے کہ کرکٹ بھی سرحد پار ہی کھیل لیں تو شائد آج حالات مختلف ہوتے لیکن حق ہا مشرف سے لے کر کیا نواز کیا عمران سب عقل سے پیدل ہیں ملکوں کے تعلقات شخصیات پر نہیں ہوتے ورنہ مودی سے ویزہ پابندی ہٹا کر پانچ دن کا دورہ نہ ہو رہا ہوتا
یونائٹڈ نیشن کے باہر مظاہرہ سے ہم نے اپنے ہی ملک کا نقصان کیا نواز کا کچھ نقصان نہیں اگلوں کے لئے آسانی ہو گئی کہ تم تو پہلے ہی ناپسند ہو مزید سخت شرائط پیش بھی ہونگی اور نواز مان بھی لے گا کیا اچھا نہیں تھا نواز کو پانچ سال پورے کرنے دیتے اس کے بعد خان ساب الیکشن جیت جاتے تو نواز بھی ادھر پورا خاندان بھی ادھر سب پر مقدمے کرتے الزامات ثابت کر کے سولی لٹکا دیتے 
لیکن شائد خان ساب پکے مومن ہیں یقین رکھتے ہیں کہ کل کا کوئی پتہ نہیں ہو نہ ہو جو کرنا آج ہی کر لو

Tuesday, August 26, 2014
محبت


محبت کی نہیں جاتی
یہ ہو جاتی ہے
دھیرے سے چپکے سے
پتہ بھی نہیں لگتا
اور جب لگتا ہے تب بہت دیر ہو چکی ہوتی ہے
میں جن سے محبت کرتا ہوں ان کی زندگی اجیرن کر دیتا ہوں لڑتا ہوں جھگڑتا ہوں کسی بات کا درست جواب نہیں دیتا ان کے ارد گرد طوفان مچائے رکھتا ہوں مجھے برداشت کرنا کوئی آسان کام نہیں میں رلا دیتا ہوں مجھے محبت کا اعتراف اور اظہار کرنا نہیں آتا
اور جو لوگ مجھ سے محبت کرتے ہیں ان کی تو مجھے بالکل خبر نہیں ہوتی ہو بھی تو میں اپنا حق سمجھ لیتا ہوں کہ وہ میرے گرد دیوانہ وار چکر لگاتے رہیں میں کسی اونچی جگہ پر بیٹھا دیکھتا رہوں اور وہ میرے گرد طواف کرتے کرتے محبت کا دم بھرتے بھرتے مرتے جائیں
اور جب تک پتہ لگتا ہے بہت دیر ہو چکی ہوتی ہے

Tuesday, September 17, 2013
اولاد


تو صاحبو یہ اولاد بھی عجیب نعمت ہے۔ بچے مجھے ہمیشہ سے پسند تھے۔ لیکن صرف وہ جو مجھ سے انٹریکٹ کریں۔ کیونکہ میں پوزیسو طبعیت کا مالک نہیں لیکن اپنے بچے کی بات ہی الگ ہے۔ اپنے بچے سے دل کی ہر تار جڑ جاتی ہے۔ خطرہ نہ بھی ہو تو سوچ سے ہی دل دھڑک اٹھتا ہے۔ اور ہلکی سی مسکراہٹ سے دل خوشی سے بھر کر پھول کر دوگنا ہو جاتا۔
ابھی پچھلے ہفتے  میں ایک ڈاکیومینٹری سنو بےبیز دیکھ رہا تھا ہر بچے کو خطرے پر دل دھڑک اٹھتا تھا اور بے اختیار دل دعا کرنے لگتا تھا کہ یا اللہ اس بچے کو کچھ نہ ہو۔ صاحب اولاد ہونا نعمت ہو یا نہ لیکن اولاد کے بعد انسان مکمل طور پر تبدیل ہو جاتا ہے
http://channel.nationalgeographic.com/galleries/snow-babies/at/discovering-some-independence-1511660/

Tuesday, April 02, 2013
جان پدر


مجھے کبھی پہلی نظر میں محبت نہیں ہوئی۔ پر اب ہو گئی ہے۔ محبت بارے سارے میرے نظرئے اٹھا کر ردی میں پھینک دئے اور گھر میرے دل میں کر لیا۔ میں نے کبھی کسی کو بغیر انٹرایکشن لفٹ نہیں کرائی لیکن پھر بھی تیری بھولی صورت مجھے خوشی کا احساس دلاتی ہے۔ تیرے ساتھ میری صبح ہوتی ہے اور تیری یاد سے نیند آتی ہے۔ اے جان پدر اللہ تیرے بارے میری ہر دعا قبول کرے آمین۔
تیرے سے پہلے اتنی محبت میں نے صرف اپنے بھائی کے لئے محسوس کی۔ میرے خون نے اتنا جوش صرف اس کے لئے مارا۔ شائد میں اس کو کبھی نہ بتا سکوں کہ مجھے اس سے کتنی محبت ہے۔ ویسے ہی تجھے بھی نہ بتا پاوں کچھ عجب نہیں۔
اے میری جان جس دن سے تو پیدا ہوا ہے میں روزانہ تیرے لئے ایک دفعہ درود تاج پڑھ کر تیرے اکاونٹ میں جمع کر رہا ہوں تاکہ جب تو جوان ہو تو تیرے پاس اس قدر نیکیاں جمع ہوں کہ تیرے جیسا جوان جہان میں کوئی نہ ہو اور تیرے پر اللہ کی خصوصی نظر ہو۔ میں نے تجھے اس خدا کو سونپ دیا جس کے احاطہ سے کچھ باہر نہیں۔ تجھ پر میرا ایک ہی قرض ہے کہ میرے مرنے کے بعد تجھے روزانہ ایک دفعہ یہ پڑھ کر مجھے بخشنا ہو گا۔ 

Monday, March 25, 2013
خوشی


تو صاحبو خوشی غم کے برعکس میرے پر ایک دم طاری نہِں ہوتی۔ یہ کئی دن تک میرے سر کے اوپر گول گول گھومتی رہتی۔ پھر آہستی آہستہ جیسے ٹھنڈ اتری ویسے دھیرے دھیرے یہ نازل ہونا شروع ہوتی۔ پہلے ہلکی ہلکی دھیمی دھیمی محسوس ہوتی پھر اور زیادہ اور زیادہ حتی کہ میں شکر بجا لاتا۔

Sunday, March 24, 2013
جانور


تو صاحبو میں انسان نہیں جانوروں کا مجموعہ ہوں۔ میر اصلیت چوہے کی ہے۔ ڈرا سہما بزدل چوہا جسکو صرف اگلے وقت کی روٹی کی فکر ہوتی ہے۔ ہر ویلے صرف مناسب وقت کا انتظار کرنے والا۔ دوسرا بڑا جانور میرے اندر ایک کتا ہے جو ہر وقت یا تو غراتا رہتا ہے یا کسی کے آگے دم ہلاتا رہتا ہے۔ تیسری حالت کوئی نہِں۔ تیسرا جانور خنزیر ہے۔ ضد اور انا کا مارا ہوا۔ جو اپنے سے بڑھ کر کسی کو سوچ بھی نہیں سکتا۔ جو ہمیشہ خود کو بہتر اور برتر سمجھتا جو ہمیشہ دوسرے کے لئے وہ چیز مانگتا جو خود نہ چاہتا ہوں۔ اور آخری جانور ہے ایک بیل۔ بزدل چوہے سے غضبناک سانڈ کا سفر بڑا طویل ہے۔ اس میں کئی دفعہ برداشت کر کر کے ایک وقت ایسا آتا ہے کہ بزدل چوہا پل بھر میں سانڈ کا روپ دھار لیتا اور پھر کیا نفع نقصان؟ 

Wednesday, March 20, 2013
غم


غم
قدرت اللہ شہاب لکھتا ہے کہ غم اس پر بوند بوند گرتا ہے۔ صاحب میرے ساتھ ایسا نہِں۔ غم مجھ پر ایک دم حملہ کر دیتا ہے۔ یہ مجھے اٹھا کر کبھی ادھر پٹختا ہے تو کبھی ادھر۔ میں بڑا روتا کرلاتا ہوں شکوے شکائیتیں کرتا ہوں۔ لیکن طوفان کب کسی کی سنتا؟ اچھی طرح مجھے دھونے کے بعد بھی غم غائب نہیں ہوتے۔ بس کچھ یوں ہوتا ہے کہ بندہ سمندری طوفان سے باہر نکلے تو اجلی جمکیلی دھوپ اور دور قوس قزاح کے سحر میں گرفتار ہو جاتا ہے۔ بس ایسے ہی میں ہمک جاتا ہوں بہل جاتا ہوں۔ مجھے بڑی مہارت حاصل ہو گئی ہے غم کو چھپانے میں۔ چہرہ دھواں دھواں دیکھ کر کوئی پوچھ بھی لے کہ کیا ہوا تو میں بڑی جلدی ظاہری طور پر حاظر اور دماغی طور پر کہیں اور پہنچ جاتا ہوں۔

حبس
اور پھر حبس ہو جاتا ہے۔ بندر گھر نہِں بناتے بس درختوں پر لٹکتے رہتے۔ لہذا جب بارش سے پہلے بادل گرجتے ہیں تو یہ بڑا اچھٖتے کودتے چیختے چلاتے ہِں مگر جب بارش شروع ہو تو پھر بیٹھ کر بھیگتے ہیں اور اس کے ختم ہونے کا انتظار کرنا پڑتا ہے۔
تو صاحب میرے اندر بھی حبس ہو جاتا ہے۔ کبھی کچھ دیکھ کر تو کبھی کچھ یاد کر کے۔ میں پھر اچھل کود کرتا ہوں۔ کبھی کہیں تو کبھی کہیں۔ اللہ بھلا کرے میرے سب دوست اس ٹیم غیب ہو جاتے ہیں۔ لہذا جب مجھے کوئی بندہ نہ ملے تو بارش شروع ہو جاتی ہے۔ آپ نے جنگل کی بارش دیکھی ہے؟ بالکل سیدھی گرتی ہے کوئی ہوا نہیں چلتی۔ بس بھیگئے اب اس بارش میں ایک آدھ دن۔