Pages

Saturday, September 27, 2014
set by example


نومبر کی سردی اور صبح صبح پونے دس بجے کال آ گئی
اٹھ جاو ماموں لینے آ رہے ہیں
میں:کیوں؟
گاڑی کا ٹائر فلیٹ ہو گیا ہے تم نے تبدیل کرنا ہے
ایک دفعہ بڑے سالے کے ایک دوست کی گاڑی میں جیک نہیں تھا اس کی گاڑی پنکچر ہو گئی تو اس کو جیک دینے گیا پر جیسے وہ زنانہ ہاتھ لگا رہا تھا پورا ٹائر تبدیل کر کے دینا پڑ گیا اب بھی یہی کہانی میرے پر پڑ گئی تھی تین دن سے سائن آ رہا گاڑی چلائے جا رہے دس ڈالر کا پنکچر نہیں لگوایا سو ڈالر کا ٹائر ڈلوانا پڑ گیا
خیر وہاں پہنچا جا کر ٹائر تبدیل کیا اتنے میں پیچھے سے آواز آئی
یو نیڈ ہیلپ؟
مڑ کر دیکھا تو لاٹ پادری ساب نیلا سفید چوغہ پہنے آ رہے پیچھے ان کے دس بارہ لوگ اور بھی تھے 
ہم نے کہا نہیں تو انہوں نے بار بار پوچھا یو شیور؟ ہمارے یقین دلانے پر انہوں ںے کہا کہ اچھا اندر کھانے کو کافی سامان ہے باہر کافی ٹھنڈ ہے فارغ ہو کر اندر آو اور کوئی چائے کافی لو
اس کو کہتے ہیں سیٹ بائے ایگزامپل
جو اس پادری اور ساتھ دس بندے لانے کا ہم پر اثر ہوا وہ اس کی سو سال کی تقریروں سے نہ ہو سکتا
حضرت بلال ایسے ہی حضور پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جانثار بن گئے تھے

https://www.facebook.com/NovelsByNimraAhmed/posts/354506351382059?fref=nf

خان ساب نے پوری قوم کو بل جمع نہ کروانے کا کہا بلکہ بل جلا کر بھی دیکھایا اور انتیس اگست کو زمان پارک کا بل جمع کروا دیا خان ساب اپنے گھر کی بجلی کٹ جانے دیتے خان صاحب نے قسم کھائی ہوئی ہے کہ میرے جیسے لوگوں کو متنفر کر کے ہی چھوڑنا ہے اس قسم کی دو نمبریوں سے خان صاب اور باقی لوگوں میں کیا فرق رہ گیا؟

جیمز بانڈ کوانٹم آف سولیس
ولن ڈومینک گرین افریقہ کے کسی آمر سے ڈیل کر رہا ہوتا ہے کہ وہ پانی کے فلاں ذخائر اس کی کمپنی کے انڈر کر دے نہ ماننے پر وہ اس کو اپوزیشن کی دھمکی دیتا ہے آمر گھٹنے ٹیک دیتا ہے
لیڈر خاص طور پر ہمارے لیڈر وہ نشئی اولاد ہوتے ہیں جو نشے کے لئے بہن کی عزت بھی داو پر لگا دیں تحریک انصاف کا نوازشریف کے خلاف سلامتی کونسل کے باہر احتجاج غلط تھا خان صاب امریکہ آ کر اس احتجاج کی لیڈ کیوں نہیں کی؟ یہ نواز یا خان کا معاملہ نہیں تھا یہاں پاکستان بدنام ہوا ہمارے ملک کی آگے کوئی عزت نہیں اور عزت تو اس وقت سے نہیں جب صدر بش کرکٹ کھیل کر نکل گئے تھے اسی وقت ہم صدر بش سے معذرت کر لیتے کہ کرکٹ بھی سرحد پار ہی کھیل لیں تو شائد آج حالات مختلف ہوتے لیکن حق ہا مشرف سے لے کر کیا نواز کیا عمران سب عقل سے پیدل ہیں ملکوں کے تعلقات شخصیات پر نہیں ہوتے ورنہ مودی سے ویزہ پابندی ہٹا کر پانچ دن کا دورہ نہ ہو رہا ہوتا
یونائٹڈ نیشن کے باہر مظاہرہ سے ہم نے اپنے ہی ملک کا نقصان کیا نواز کا کچھ نقصان نہیں اگلوں کے لئے آسانی ہو گئی کہ تم تو پہلے ہی ناپسند ہو مزید سخت شرائط پیش بھی ہونگی اور نواز مان بھی لے گا کیا اچھا نہیں تھا نواز کو پانچ سال پورے کرنے دیتے اس کے بعد خان ساب الیکشن جیت جاتے تو نواز بھی ادھر پورا خاندان بھی ادھر سب پر مقدمے کرتے الزامات ثابت کر کے سولی لٹکا دیتے 
لیکن شائد خان ساب پکے مومن ہیں یقین رکھتے ہیں کہ کل کا کوئی پتہ نہیں ہو نہ ہو جو کرنا آج ہی کر لو

Tuesday, August 26, 2014
محبت


محبت کی نہیں جاتی
یہ ہو جاتی ہے
دھیرے سے چپکے سے
پتہ بھی نہیں لگتا
اور جب لگتا ہے تب بہت دیر ہو چکی ہوتی ہے
میں جن سے محبت کرتا ہوں ان کی زندگی اجیرن کر دیتا ہوں لڑتا ہوں جھگڑتا ہوں کسی بات کا درست جواب نہیں دیتا ان کے ارد گرد طوفان مچائے رکھتا ہوں مجھے برداشت کرنا کوئی آسان کام نہیں میں رلا دیتا ہوں مجھے محبت کا اعتراف اور اظہار کرنا نہیں آتا
اور جو لوگ مجھ سے محبت کرتے ہیں ان کی تو مجھے بالکل خبر نہیں ہوتی ہو بھی تو میں اپنا حق سمجھ لیتا ہوں کہ وہ میرے گرد دیوانہ وار چکر لگاتے رہیں میں کسی اونچی جگہ پر بیٹھا دیکھتا رہوں اور وہ میرے گرد طواف کرتے کرتے محبت کا دم بھرتے بھرتے مرتے جائیں
اور جب تک پتہ لگتا ہے بہت دیر ہو چکی ہوتی ہے

Tuesday, September 17, 2013
اولاد


تو صاحبو یہ اولاد بھی عجیب نعمت ہے۔ بچے مجھے ہمیشہ سے پسند تھے۔ لیکن صرف وہ جو مجھ سے انٹریکٹ کریں۔ کیونکہ میں پوزیسو طبعیت کا مالک نہیں لیکن اپنے بچے کی بات ہی الگ ہے۔ اپنے بچے سے دل کی ہر تار جڑ جاتی ہے۔ خطرہ نہ بھی ہو تو سوچ سے ہی دل دھڑک اٹھتا ہے۔ اور ہلکی سی مسکراہٹ سے دل خوشی سے بھر کر پھول کر دوگنا ہو جاتا۔
ابھی پچھلے ہفتے  میں ایک ڈاکیومینٹری سنو بےبیز دیکھ رہا تھا ہر بچے کو خطرے پر دل دھڑک اٹھتا تھا اور بے اختیار دل دعا کرنے لگتا تھا کہ یا اللہ اس بچے کو کچھ نہ ہو۔ صاحب اولاد ہونا نعمت ہو یا نہ لیکن اولاد کے بعد انسان مکمل طور پر تبدیل ہو جاتا ہے
http://channel.nationalgeographic.com/galleries/snow-babies/at/discovering-some-independence-1511660/

Tuesday, April 02, 2013
جان پدر


مجھے کبھی پہلی نظر میں محبت نہیں ہوئی۔ پر اب ہو گئی ہے۔ محبت بارے سارے میرے نظرئے اٹھا کر ردی میں پھینک دئے اور گھر میرے دل میں کر لیا۔ میں نے کبھی کسی کو بغیر انٹرایکشن لفٹ نہیں کرائی لیکن پھر بھی تیری بھولی صورت مجھے خوشی کا احساس دلاتی ہے۔ تیرے ساتھ میری صبح ہوتی ہے اور تیری یاد سے نیند آتی ہے۔ اے جان پدر اللہ تیرے بارے میری ہر دعا قبول کرے آمین۔
تیرے سے پہلے اتنی محبت میں نے صرف اپنے بھائی کے لئے محسوس کی۔ میرے خون نے اتنا جوش صرف اس کے لئے مارا۔ شائد میں اس کو کبھی نہ بتا سکوں کہ مجھے اس سے کتنی محبت ہے۔ ویسے ہی تجھے بھی نہ بتا پاوں کچھ عجب نہیں۔
اے میری جان جس دن سے تو پیدا ہوا ہے میں روزانہ تیرے لئے ایک دفعہ درود تاج پڑھ کر تیرے اکاونٹ میں جمع کر رہا ہوں تاکہ جب تو جوان ہو تو تیرے پاس اس قدر نیکیاں جمع ہوں کہ تیرے جیسا جوان جہان میں کوئی نہ ہو اور تیرے پر اللہ کی خصوصی نظر ہو۔ میں نے تجھے اس خدا کو سونپ دیا جس کے احاطہ سے کچھ باہر نہیں۔ تجھ پر میرا ایک ہی قرض ہے کہ میرے مرنے کے بعد تجھے روزانہ ایک دفعہ یہ پڑھ کر مجھے بخشنا ہو گا۔ 

Monday, March 25, 2013
خوشی


تو صاحبو خوشی غم کے برعکس میرے پر ایک دم طاری نہِں ہوتی۔ یہ کئی دن تک میرے سر کے اوپر گول گول گھومتی رہتی۔ پھر آہستی آہستہ جیسے ٹھنڈ اتری ویسے دھیرے دھیرے یہ نازل ہونا شروع ہوتی۔ پہلے ہلکی ہلکی دھیمی دھیمی محسوس ہوتی پھر اور زیادہ اور زیادہ حتی کہ میں شکر بجا لاتا۔

Sunday, March 24, 2013
جانور


تو صاحبو میں انسان نہیں جانوروں کا مجموعہ ہوں۔ میر اصلیت چوہے کی ہے۔ ڈرا سہما بزدل چوہا جسکو صرف اگلے وقت کی روٹی کی فکر ہوتی ہے۔ ہر ویلے صرف مناسب وقت کا انتظار کرنے والا۔ دوسرا بڑا جانور میرے اندر ایک کتا ہے جو ہر وقت یا تو غراتا رہتا ہے یا کسی کے آگے دم ہلاتا رہتا ہے۔ تیسری حالت کوئی نہِں۔ تیسرا جانور خنزیر ہے۔ ضد اور انا کا مارا ہوا۔ جو اپنے سے بڑھ کر کسی کو سوچ بھی نہیں سکتا۔ جو ہمیشہ خود کو بہتر اور برتر سمجھتا جو ہمیشہ دوسرے کے لئے وہ چیز مانگتا جو خود نہ چاہتا ہوں۔ اور آخری جانور ہے ایک بیل۔ بزدل چوہے سے غضبناک سانڈ کا سفر بڑا طویل ہے۔ اس میں کئی دفعہ برداشت کر کر کے ایک وقت ایسا آتا ہے کہ بزدل چوہا پل بھر میں سانڈ کا روپ دھار لیتا اور پھر کیا نفع نقصان؟ 

Wednesday, March 20, 2013
غم


غم
قدرت اللہ شہاب لکھتا ہے کہ غم اس پر بوند بوند گرتا ہے۔ صاحب میرے ساتھ ایسا نہِں۔ غم مجھ پر ایک دم حملہ کر دیتا ہے۔ یہ مجھے اٹھا کر کبھی ادھر پٹختا ہے تو کبھی ادھر۔ میں بڑا روتا کرلاتا ہوں شکوے شکائیتیں کرتا ہوں۔ لیکن طوفان کب کسی کی سنتا؟ اچھی طرح مجھے دھونے کے بعد بھی غم غائب نہیں ہوتے۔ بس کچھ یوں ہوتا ہے کہ بندہ سمندری طوفان سے باہر نکلے تو اجلی جمکیلی دھوپ اور دور قوس قزاح کے سحر میں گرفتار ہو جاتا ہے۔ بس ایسے ہی میں ہمک جاتا ہوں بہل جاتا ہوں۔ مجھے بڑی مہارت حاصل ہو گئی ہے غم کو چھپانے میں۔ چہرہ دھواں دھواں دیکھ کر کوئی پوچھ بھی لے کہ کیا ہوا تو میں بڑی جلدی ظاہری طور پر حاظر اور دماغی طور پر کہیں اور پہنچ جاتا ہوں۔

حبس
اور پھر حبس ہو جاتا ہے۔ بندر گھر نہِں بناتے بس درختوں پر لٹکتے رہتے۔ لہذا جب بارش سے پہلے بادل گرجتے ہیں تو یہ بڑا اچھٖتے کودتے چیختے چلاتے ہِں مگر جب بارش شروع ہو تو پھر بیٹھ کر بھیگتے ہیں اور اس کے ختم ہونے کا انتظار کرنا پڑتا ہے۔
تو صاحب میرے اندر بھی حبس ہو جاتا ہے۔ کبھی کچھ دیکھ کر تو کبھی کچھ یاد کر کے۔ میں پھر اچھل کود کرتا ہوں۔ کبھی کہیں تو کبھی کہیں۔ اللہ بھلا کرے میرے سب دوست اس ٹیم غیب ہو جاتے ہیں۔ لہذا جب مجھے کوئی بندہ نہ ملے تو بارش شروع ہو جاتی ہے۔ آپ نے جنگل کی بارش دیکھی ہے؟ بالکل سیدھی گرتی ہے کوئی ہوا نہیں چلتی۔ بس بھیگئے اب اس بارش میں ایک آدھ دن۔