Pages

زکواۃ

1998 میں ہمارے چچا جان کے پاس کسی نے کچھ پیسے رکھوائے۔ دادا جان نے سختی سے منع کیا کہ کسی کی امانت ہے لہذا بینک میں جمع کرواؤ گھر میں مت رکھو۔ کچھ مہینوں بعد رمضان کا مہینہ آ گیا۔ چچا نے کہا چلو بینک سے پیسے لے کر آنے ہیں۔ ہمارا کیا کیوں کیسے کبھی بند نہیں ہوا لہذا عادت سے مجبور ہو کر پوچھا کیوں نکلوا رہے ہیں؟ دادا جان نے تو منع کیا تھا۔ ارشاد ہوا کسی کے پیسے ہیں بینک نے زکواۃ کاٹ لینی ہے۔ اب ہم سوچنے لگے جن صاحب نے پیسے رکھوائے تھے وہ کس خوشی میں زکواۃ ادا نہیں کر رہے بہت بعد میں جا کر پتہ چلا کہ وہ صاحب ہیں ہی اس قسم کے۔
My Space


ہم لوگ اپنے ایک عزیز کی طرف روزہ افطار کرنے گئے۔ ہمارے وہ عزیز بینک میں کام کرتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ زکواۃ کے ڈر سے مسلمان بینک سے ایسے پیسے نکلوانے کے لئے ٹوٹتے ہیں جیسے مفت میں کچھ بنٹ رہا ہوں۔ عام دنوں میں دفتروں سے چھٹی نہیں کرتے کہ جی پرائیوٹ جاب ہے کیسے کریں۔ مگر تھوڑی سی زکواۃ بچانے کے لئے بھاگے آتے ہیں۔ اور یہ بھی نہیں کہ زکواۃ خود حساب کر کے کسی جاننے والے کو دینی ہے۔ صرف اور صرف بچانی ہے۔ یہ لوگ فطرانہ بڑی مشکل سے دیتے ہیں تو زکواۃ کہاں دیں گے۔

میں ہمیشہ سمجھتا تھا کہ جس طرح عام دنوں میں بینکوں میں کام ہوتا ہے ویسے ہی ہوتا ہوگا اور لوگ آرام سے اپنی زکواۃ بچا لیتے ہونگے مگر آج کا اخبار دیکھ کر پتہ چلا کہ معمولی سی زکواۃ بچانے کے لئیے کیسا کھڑکی توڑ رش پڑتا ہے۔

میرے بابا جس فرم میں کام کرتے ہیں وہ لوگ اپنے سب ورکرز کی Pay ہر ماہ کی 5 تاریخ تک clear کر دیتے ہیں طریقہ کار ہوں ہے کہ چیک جاری کر دئیے جاتے ہیں جو کہ بینک میں جا کر کیش کروا لئیے جاتے ہیں۔ مگر اس دفعہ انہوں نے بھی زکواۃ کٹوتی کی وجہ سے تمام پیسہ نکلوا لیا ہے۔ اب صبح واپس جمع کروائیں گے اور پھر چیک جاری ہونگے۔

سستی اور کاہلی نماز پڑھنے سے روکتی ہے۔ کوئی بات نہیں۔ روزے Dietin کے طور پر رکھ لیتے ہیں۔ کوئی بات نہیں۔ حج رش اور گرمی کی وجہ سے نہیں کرتے۔ کوئی بات نہیں۔ لیکن اسی کے دئیے ہوئے میں سے جب وہ کچھ مانگتا ہے تو ہم اتنے تنگ دل ہو جاتے ہیں کہ اس کو بھی جھٹلا دیتے ہیں جس نے ساری زندگی کبھی ہمارا ہاتھ نہیں جھٹلایا۔
Comments
0 Comments

0 تبصرے: