Pages

Friday, November 28, 2014
رنجش ہی سہی


مانا کہ محبت کا چھپانا ہے محبت
چپکے سے کسی روز جتانے کے لئے آ
جیسے تمہیں آتے ہیں نہ آنے کے بہانے
ایسے ہی کسی روز نہ جانے کے لئے آ
اب تک دل خوش فہم کو ہیں تجھ سے امیدیں
یہ آخری شمعیں بھی بجھاںے کے لئے آ
کچھ تو مرے پندار محبت کا بھرم رکھ
تو بھی تو کبھی مجھ کو منانے کے لئے آ
کس کس کو بتائیں گے جدائی کا سبب ہم
تو مجھ سے خفا ہے تو زمانے کے لئے آ
رنجش ہی سہی دل ہی دُکھانے کے لئے آ
Comments
1 Comments

1 تبصرے:

Anonymous نے فرمایا ہے۔۔۔

Acha ji